ہفتہ , ستمبر 21 2019
Home / اہم خبریں / حشوکیو ل رامانی کون تھے ؟

حشوکیو ل رامانی کون تھے ؟

سجاد ظہیر سولنگی

ہمارے خطے کو ترقی پسند اور خرد افروز بنانے کے خواب بہت لوگوں نے دیکھے تھے، ایسے لوگ جو اس سرزمین سے بہت پیار کرتے تھے۔ جنہوں نے سیاست کے لیے عملی کردار ادا کیا۔اس سماج کو انسانی تاریخ کا شاہکار سماج بنانے کا جو سپنا انہوں نے دیکھا ، اور اسی خواب کی تعبیرکو عملی جامہ پہننانے کے لیے اپنی زندگی کی بازی تک لگا دی۔ جو نیا سماج،نئی دنیا، نئی تاریخ اور نئی تبدیلی کے لیے لڑنے والے سماجی سائنسدان تھے۔
سندھ کی سیاسی تاریخ کے بہت بڑے نام جی ایم سید نے کامریڈ حشمت ٹہلرام ” حشوکیولرامانی” کو اپنا سیاسی استاد تسلیم کیا ہے۔ سندھی زبان کے بہت بڑے شاعر جس کو شاہ لطیف بھٹائی کے بعد بڑا مقام حاصل ہے، اسی شیخ ایاز نے بھی کامریڈ حشو کو اپنا استاد اور اس کے پاؤں چھونے میں فخر محسوس کیا ہے۔حشو کیولرامانی اسی تقسیم کا شکار بنے جس نے لاکھوں حقیقی باشندوں کو اپنی سرزمین سے الگ کیا۔ کامریڈ حشو کی زندگی کے بہت سے اطراف ہیں۔ وہ بہت بڑی شخصیت تھے۔ اس کی سیاسی زندگی کے کئی پہلو ہیں،
حشو ،ان کو پیار کے نام سے بلایا جاتا تھا۔ جب کے ان کا اصل نام حشمت رائے تھا۔ سیاست اور ادب کے دنیا میں ہم انہیں حشو کیولرامانی کے نام سے یاد کیا کرتے ہیں۔ آپ کا جنم بھریا ( آج کے تحصیل) ضلعہ نوشروفیروز ( اس وقت ضلعہ نواب شاہ ) میں 20 دسمبر 1914 ء اتوار کی شب کو ہوا۔ آپ کے والدِ محترم کا نام دیوان تہلرام تھا، جو کہ برٹش حکومت کے دوران سندھ میں مختیار کار تھے۔آپ کے والد بہت ہی ایماندار تھے۔ آپ کے دادا دیوان کھیؤ مل اپنے علاقے کے بہت بڑے زمیندار تھے۔ جب آپ آٹھ برس کے تھے، توآپ کے والدِ محترم 3 دسمبر 1922 ء کو انتقال کرگئے۔آپ کی پرورش آپ کی ماں نے کی۔ آپ کے علمی نشونما سے اندازہ لگایا سکتا ہے کہ آپ کی ماتا ایک بردبار خاتون تھی۔ حشو صاحب نے بنیادی تعلیم اپنے آبائی شہر بھریا میں سے حاصل کی۔میٹرک کے لیے کراچی آگئے، یہاں N-J-V اسکول سے آپ نے میٹرک پاس کی۔ 17 سال کی عمر میں آپ ہندوستان سے باہر چلے گئے۔ 1935 ء میں حشو صاحب انگلینڈ گئے ، جہاں پہلے تو انہوں نے آئی سی ایس کی سروس اور ایرو ناٹیکل کے لیے پڑھائی شروع کی۔ یہ مضامین حشو کی پسند کے نہیں تھے۔ اسے خیر آباد کرکے آپ نے سیاست اور معاشیات کو پڑھنا شروع کیا۔ حشو کی اسکولنگ اتنی اچھی تھی کے وہ اگر ان مضامیں کو نہیں بھی پڑھتے تو تب بھی ان کے حافظ ہوتے۔ یہی ہوا کہ حشو کا من ان مضامین سے ہٹ گیا۔ انہوں نے اکیڈمک کے بجائے اپنے شوق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مختلف مضامین ادب ، فلسفہ اور تاریخ کا مطالعہ اکیڈمک تعلیم سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر کیا۔آپ کے لندن میں ہندوستان کے بہت بڑے کانگیریسی راہنما کرشنا مینن کے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔ کانگریس کے کی ذیلی شاخ کے دفتر ” انڈیا آفیس” میں کام کرنے اور نامور آزادی پسند راہنماؤں پنڈت جواہر لعل نہرو، اندرا گاندھی ، فیروز گاندھی اور بڑے بڑے مارکسسٹ راہنماؤ ں کے ساتھ بحث مباحث ہوئے۔ انہوں نے بہت سے نظریات کا مطالعہ کیاجس کے بعد ان اس نتیجے پر پہنچے کے مسائل کا حل سوشلزم کے نظریات میں ہے۔

1939 ء میں آپ سندھ واپس آئے یہاں آپ نے سندھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں کام کرنا شروع کیا۔یہ تنظیم سندھ میں طلبہ کے اندر ترقی پسند سیاست کے فروغ کے لیے کوشاں تھی۔اس قافلے میں کامریڈ سوبھو گیان چندانی، کامریڈ جمال ادین بخاری، پوہو مل، گوبند مالھی، اے کے ہینگل اور دیگران وطن پرست ترقی پسند اپنی نظریاتی اساس سے کانگریس او لیگ کی سیاست میں طبقاتی اور مذہبی فرق کو واضح کرتے جارہے تھے۔حشو کیول رامانی ان تمام میں سے ایک الگ انسان تھے، تحریر کے حوالے سے اعلیٰ قسم کے لکھاری اور بولنے میں شعلہ بیان مقرر تھے۔
ایک وقت ایسا آیا جب برصغیر کو تقسیم کے نام پرآزادی ملی دو الگ الگ ملک بنے سرحدیں بنیں۔ جنہوں نے بڑی بڑی خواہشوں کے ساتھ لوگوں کوبھی تقسیم کیا۔ حشوکیول رامانی کو بھی اس کشمکش کا شکار ہونا پڑا۔ حشو کے لیے سندھ کو چھوڑنا ایک عظیم گناہ کے برابر تھا۔ وہ ہندوستان کے بجائے انگلینڈ جانا چاہتے تھے ، تاکہ واپسی کے امکان باقی رہ سکیں۔وہ سندھ کے شہر ی بن کر یورپ جانے کے حق میں تھے۔ لیکن قسمت کو کچھ اور چاہیے تھا۔ کامریڈ حشو کے تمام راستے تب بند ہوگئے جب انہیں سندھ چھوڑنے کا فرمان مسعود کھدر پوش کے ہاتھوں تھما دیا گیا۔ مسعود جسے وہ اپنا دوست سمجھتے تھے۔ لیکن انہوں نے دوستی کا حق یہ ادا کیا کے حشو کو یہاں سے نکالنے کے تمام اقدام اسی مسعود کے ہاتھوں ہوئے۔یہ آزادی جو جس میں بہت سے son of soil کی عملی، علمی اور جانی جدوجہد شامل تھی۔لیکن اسی وطن پرست حشو کیولرامانی کو یہاں سے جانے پر مجبور کیا گیا۔ حشوکیول رامانی کو تمام غیرمسلم آزادی پسند راہنماؤں کے ساتھ جیل میں بند کردیا گیا۔آپ نے جیل میں درخواست دی کہ سندھ ، میں رہنا چاہتا ہوں ، لیکن حشو کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں، دسمبر 1949 ء میں انہیں ایک ر وز جیل میں بتایا گیا ، کے ان کی جانب سے سندھ میں رہنے والی درخواست رد کردی گئی ہے۔انہیں جیل سے ہی سیدھا ایئرپورٹ جانا پڑیگا۔ حشو جو کے اس وقت کراچی میں سندھ لا کالیج کے قریب ایک فلیٹ میں رہتے تھے۔وہ دل برداشتہ ہوگئے۔ کہا ” میں پہلے اپنے فلیٹ اور جی ایم سید کی رہائش گاہ، حیدر منزل جاؤں گا ، اس کے بعد ہی ائیرپورٹ جاؤں گا۔ یاد رہے کامریڈ حشو اپنا فلیٹ اور کتابیں شیخ ایاز کے سپرد کر کے گئے تھے۔ انہیں یہ اندازہ تھا کے وہ لوٹ آئیں گے۔ یہ فلیٹ حشو کے سیاسی دوست مونس ( جس کا تعلق سیالکوٹ سے تھا ،حشو کے ساتھ رہتے تھے) نے بیچ دیا دیا۔
ہندوستان میں جانے کے بعدحشو کیولرامانی نے دہلی کو اپنا مسکن بنایا۔ جہاںآپ نے سرلا نامی خاتوں سے شادی کی۔جسے حشو کراچی سے جانتے تھے۔ انگریزی صحافت کو جوائن کیا۔ حشو ہندوستان میں بے چین رہنے لگے ، آپ کی بے چینی کا اندازہ کوئی بھی نا لگا سکا۔اور اوہ دہلی کو خیر آباد کرکے بمبئی میں آگئے۔کراچی میں حشو کے ہمراہ کام کرنے والے ترقی پسند راہنما کیرت بابانی کے مطابق ان کا ذہنی میزان ٹھیک نہیں لگتا تھا۔ کیا ہوا کچھ پتا نہ تھا ، کیرت کے مطابق انہوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا، قریبی دوستوں سے پیسے لیا کرتے تھے۔کہتے تھے کہWorld Classic لکھ رہا ہوں جس سے ملنے والی آمدنی کے بعد یہ ادھار واپس کردوں گا۔ کیرت نے مزید لکھا ہے کہ رہائش کے حوالے سے پہلے اپنی بوڑھی بہن کے گھر میں رہتا تھا، لیکن دیر سے آنے کی وجہ پر وہاں سے بھی نکال دیے گیے۔ اس کے بعد لاوارثوں کی طرح جہاں نیند آئی وہاں سو گئے۔
سندھ کے اس عظیم دانشور نے خود کو ہمیشہ جلاوطن سمجھا، ایک دن حشو کا غائب ہو جانا آج تک یہ بات ایک گمنام بنی ہوئی ہے۔ جس رات وہ غائب ہوئے ، اسی رات مبئی میں بہت تیز بارش ہوئی۔ اور حشو کیول رامانی بمبئی میں سڑکوں پر ہی سوجاتے تھے۔ اسی بارش کی رات کے بعد کسی نے بھی حشو کو نہیں دیکھا۔کیرت کے مطابق آخری بار جس شخص نے انہیں دیکھا وہ حشو کے قریبی رشتے دار تھے۔یہاں سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ہندوستان میں آباد سندھی بولنے والوں نے اس عظیم دانشور کو کیوں نہیں سنبھالا۔حشو کہا کرتے تھے کہ تم میری قدر کیا جانو؟ میری لیول کا پتا شیخ ایاز اور جی ایم سید سے جاکر پوچھو۔ سندھ والے میری قدر کریں گے۔

حشو سندھ میں مارکسسٹ تحریک کے بانی کارکنان میں سے تھے، بھارت میں آزادی کی جنگ لڑنے والوں کے لیے فریڈم فائیٹر ز کا وظیفہ مقر کیا گیا تھا، جو کو ہر ماہ دیا جاتا تھا۔ لیکن حشو کیولرامانی نے وہ وظیفہ لینے سے انکار کیا تھا۔
حشو کی داستان غم میں نڈھال کر دیتی ہے۔آنکھیں نم دیدہ ہوجاتی ہیں،جگر دریدہ ہوجاتا ہے اور دل غم دیدہ ہوجا ہے۔فن، محبت اور فکر کسی بھی رکاوٹ سے نہیں رک پاتا۔پاک اور ہند کی سیاست پر سیکڑوں مضامین لکھنے والے اس عظیم انقلابی کے لیے اچھا اعزاز یہ ہوگا کہ ایک پروگریسو انسٹیٹیوٹ تشکیل دیکر آزادی اور آزادی سے پہلے سماجی اور سیاسی سطح پر عوامی ادب اورعوامی تاریخ کو یکجھا کیا جائے۔جس تاریخ اور ادب میں سیکڑوں ایسے وطن پرست ترقی پسند ملیں گے جن کی فکری نشوو نما حشوکیو ل رامانی جیسے مدبر دانشور وں نے کی ہے۔ آئیے ہم حشو کیولرامانی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اپنے ذہنوں میں ترقی پسندی اور انسان دوستی کے فکر کو مسکن بنائیں۔ ایسے نظریات کو آگے بڑھائیں ، جو علموں کی تقسیم کے بجائے ان کے حفاظت کے لیے کوشاں رہیں۔ پسے ہوئے طبقات کی جدوجہد گواہی دیگی گے کہ ہم ہی اس سماج کو بدلیں گے جس کو بدلنے کے لیئے حشو کیول رامانی کی طرح بہت سے ہمارے بزرگوں نے اپنی زندگیاں گنوا دیں۔

Check Also

ڈیم

ڈیموں کی متبادل اور چھوٹے منصوبوں کی صدی

محمد علی شاہ یہ ڈیموں کی متبادل اور چھوٹے منصوبوں کی صدی ہے. اگر ہم …