اتوار , اگست 18 2019
Home / پروفائیل / زبیدہ بروانی – سمندر کی بیٹی
سمندر کی بیٹی

زبیدہ بروانی – سمندر کی بیٹی

آزاد جان – کینیڈا

لمبے بال، نشیلی آنکھیں اور ماتھے پر بندی سجائے ایک شوخ چنچل سی لڑکی- جس کو میں نے پہلی بار کراچی پریس کلب کے گیٹ کے باہر نعرے لگاتے دیکھا. میں سمجھا کہ یہ ہندو ناری ہے. میں علیک سلیک بڑھنے کی نیت سے آگے بڑھا اور کہا نمستے. اس نے خاص سندھی اسٹائل میں ہاتھ باندھ کر کہا نمستے.

رسمی دعا سلام شروع کی اتنے میں کسی نے اس کا نام پکارا ‘زبیدہ’. اس پر تو میرے جیسا کم علم بندہ جسکے پاس یونیورسٹی کی ڈگریاں تو تھیں، لیکن وہ تعلیم جو انسانیت سمجھاتی اس وقت نہیں تھی. میں نے پوچھا آپ مسلم ہو. وہ ہنس کر بولی, “پانچ ہزار سالوں سے سندھی ہوں اور سات سو سال سے مسلم ہوں… اب بتائیں میں کون ہوں؟” لاجواب کر کے وہ چلی گئی.

میں اپنی کم عقلی کی دلدل میں دستا گیا. وہ تھوڑی سی مغرور سمجھی جاتی تھی ہمارے حلقہ و احباب میں. درحقیقت وہ تو پرندہ بنی ہوئی تھی- وہ بے پرواہ پرندہ تھی جو بلندیوں پے جانا چاہتی تھی, اور وہ گئی بھی.

سندھ اور سندھیوں سے محبت اس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی. شاید یہ سندھ کی دھرتی کا کمال ہے کہ وہ اپنے بچوں کو محبت سے سینچتی ہی. کبھی وہ مکمل سندھی بن جاتی تھی- ایک غیرت مند بیٹی جو کراچی کی سڑکوں پر درویش بن کر گھومتی تھی اور چومتی تھی اپنے صدیوں پرانے ورثے کو.

کبھی وہ محبت کی دیوی کی طرح دل کی ہر دیوار گرا دیتی اور ہر کسی کی مدد کے لئے تیار رہتی بنا کسی تفریق کے. اسے اپنے کام کے سواء کوئی بھی چیز نظر نہیں آتی تھی. جون کی مہینے میں جب سورج آگ اگلتا تھا اور سمندر اپنی جوانی دکھاتا تھا تب وہ سب کو اکٹھا کر کے تمر، جس کو انگریزی میں مینگروز کہا جاتا ہے، پلانٹیشن کے لئے لیے جاتی تھی.

ہماری جان ہتھیلی پہ ہوتی اور وہ سمندر کے سامنے سینہ تان کر کھڑی رہتی، کیوں کہ وہ سمندر کی بیٹی کا لقب رکھتی ہے. تمر کی پلانٹیشن ننگے پاؤں ہوتی ہے اور میں نے اس دوران کئی دفعہ اس کے پاؤں سے خون رستے دیکھا ہے. مہندی اسے پسند نہیں تھی شاید اس نے یہ رنگ چُنا تھا اپنے لئے.

ہم جب بولتے تھے تم اتنے مشکل کام کیوں کرتی ہو اور اپنے پیروں کو بھی زخمی کرتی ہو تو وہ غصے سے کہتی “آزاد تمیں پیروں کی فکر ہے مجھ اپنے شہر کی فکر اپنے لوگوں کی فکر ہے.” اس کا انتھک عشق دیکھ کے مجھے بھی سندھ اور سندھیوں سے عشق ہوگیا.

چوڑیوں سے اسے نفرت تھی کیونکہ وہ آن کو غلامی کی علامت سمجھتی تھی. ویلنٹائن ڈے پر اسکے پاس پھولوں کا گلدستہ اور تحفہ آتا تھا، ایک ایسے شخص کی طرف سے جسے نہ ہم دوست جانتے تھے اور نہ ہی وہ خود جانتی تھی. وہ مضبوط کردار کی لڑکی تھی اس لیے ان حرکتوں سے متاثر ہونے والی نہیں تھی.

میں اکثر سوچتا تھا اس لڑکی کو کس سے محبت ہوگئی لیکن میں انتظار کرتا رہا اور میری موجودگی میں ایسا نہیں ہوا پر سنا کہ اسنے شادی کرلی.. یقین اس شخص سے اسے محبت ہو گئی ہوگی. زبیدہ بروانی آپ مجھے اقبال کے اس شعر پر مکمل اترتی نظر آتی ہو.

کہاں سے تو نے اے اقبال سیکھی ہے یہ درویشی

کہ چرچہ پادشاہوں میں ہے تیری بے نیازی کا.

دعا اور امید ہے کہ سندھ دھرتی ایسی بیٹیوں کو بار بار جنم دے. بہت ساری دعائیں اور پیار آپ کے لیے اور آپ خاندان کے لئے. (آزاد جان)

Check Also

پاکستان میں اسلامی بینکاری کا بڑھتا رجحان

محمد واحد اسلامی بینکاری صرف اسلامی ممالک میں نہیں بلکہ ساری دنیا میں تیزی سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے