اتوار , اگست 18 2019
Home / کالمز / آج کے کالمز / شاہ لطیف اور بیراگن

شاہ لطیف اور بیراگن

زبیدہ بروانی

سورج آہستہ آہستہ غروب ہو رہا تھا، اُس بیراگن کی غم زدہ آنکھیں جھرمر کرتی ہوئی سمندر کی لہروں کو تک رہی تھیں. وہ سوچ رہی تھی کہ یہی تو وہ سمندر ہے جو مجھ میں رچا بسا ہوا ہے اور یہ ٹھاٹھیں مارتی لہریں بلکل ویسی ہی دکھتی ہیں جیسے میرے اندر اک اک لہر درد کی اُٹھتی ہے… وہ درد جس کو بڑے بڑے مفکرین اور دانش مند بیان کرنے میں ناکام رہے ہیں، اور آخر میں یہ کہا کہ یہ فطری احساس ہے بیان نہیں کیا جاسکتا ہے۔

مگر یہ بیراگن جو شاید میرا جیسی لگتی ہے۔ لیکن یہ نئی میرا کرشن کی نہیں، بلکہ منصورحلاج کی میرا ہے، جس نے درد سہنا اور درد لینا بھی منصورسے ہی سیکھا ہے۔۔۔ کبھی کبھی منصور خود درد بن جاتا ہے۔

آخر یہ درد مند آنکھوں والی بیراگن یہاں کس کی تلاش میں ہے، راہ گز نے سوچا! اے اداس آنکھوں والی اِس ویرانے میں تمہیں کس کی تلاش ہے؟ بیراگن نے اپنی مخمور آنکھیں اؑٹھاکر دیکھا۔۔۔ اور بولی اؑس مھا پؑرش کی جودرد کو الفاظ میں بیان کرسکتا ہے، مجھے پتا لگا ہے کہ آج کل وہ اسی سمندر کے کنارے مکین ہے۔

کیا تم اس کا نام جانتی ہوِ؟ راہ گزر نے کہا، وہ ایک لمبی مسافت طئہ کر کے یہاں پہنچے ہیں۔ ان کے ایک ہاتھ میں کتاب اور دوسرے ہاتھ میں تنبورا(اکتارہ) ہے، لوگ ان کو شاہ لطیف کے نام سے پکارتے ہیں.

راہ گزر نے کہا، تمہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتی نظر آرہی ہے۔ اس کے پیچھے وہ سیاہ پوش آدمی شاہ لطیف ہیں۔ بیراگن تڑپ اؑٹھیں وہ جو اپنے ہی درد میں غلطان تھی ایک جھٹکے سے جاگ اؑٹھی، فضا میں مدھر سؑر بکھرے ہوے تھے۔ اؑس کے قدم بے ساختہ اؑس سمت بڑھ گئے۔ وہ تیز تیز قدموں سے چل رہی تھی. کبھی ریت اس کے قدموں کو پکڑ رہی تھی پرہر اگلے قدم کی رفتار پہلے سے تیز ہوتی جارہی تھی کیوں کہ، یہ ریت ان قدموں سے انجان تھی اس لئے ایسی جرئت کرہی تھی۔ جس بیراگن کے وجود میں سمندر جیسا درد اور روم روم میں منصور بسا تھا وہ قدم رکنے والے نہیں تھے۔ آکاش سے گرتی چاندنی نے پورے سما کو روشن کیا ہوا تھا۔ بیراگن پھترسی ہوگئی، حسین پرکشش چہرہ کاندھوں پرگھنے بال، ہلکی سندھوکی دھارا جیسی داڑھی اور آنکھیں سندھی سمندرجیسی گہری۔ صراحی دار ہاتھ ، قلم نماں انگلیاں تنبورے کی تاروں کو چھؑو رہی تھیں۔

بیراگن جس کے کاندھوں پربکھرے ہوئے بال تھے وہ اپنی ازلی منصوری چادر اوڑھے گھٹنوں کے بل شاہ لطیف کےسامنے بیٹھ گئی اؑس کی آنکھیں برستا ہوا ساون بن چکی تھیں، کیا میں ہوں بھی یا نہیں، اگر ہوں تو میں ہوں کون۔۔ شاہ لطیف نے بیراگن کی طرف دیکھا اور مسکرائے. اؑن کی آنکھوں میں غضب کی تجلی تھی! کیا میں واقعی اپنے مرشد کے سامنے ہوں، جو درد کو سمھجتا ہے! کہتا ہے کہ عورت محبوب نہیں عاشق ہے. بیراگن بہتی ہوئی آنکھوں سی لطیف سے مخاطب تھی ۔ لطیف نے کہا دردمند ہو، بیراگن نے کہا ہاں میں منصور حلاج کی میرا ہوں اور انتہا کی حد تک درد میں مبتلا ہوں۔ لطیف نے کہا، دل کی آنکھ سے ساجن دیکھا، اب کیسا آرام، بھٹکے گی وہ دشت و جبل میں، گھایل جسم تمام، پیا بلند مقام، عشق کی تھی یہ نوازش۔ بیراگن کی آنکھیں شدتِ درد سے ؑسلگ اؑٹھیں، بولی میں اؑسکی میرا ہوں جو نام ہے ثابت قدمی کا، قربانی کا، پھر بھی درد دیتا ہے یہ درد مجھ میں بستا ہے لیکن سمجھانے سے قاصر ہوں۔

لطیف نے کہا۔ اپنے دشتِ وجود میں اؑسے ڈھونڈو، من کی آنکھوں سے، روح کی گہرائیوں میں تم اسے پاؤگی۔ عشق وصل میں نہیں فراق میں ہے۔۔ اپنے محبوب کے لئے ہجر کے صحرا کو پار کرنا ہوتا ہے۔ کیوں کہ وصل کی راحت میں ہجر کی تڑپ اور بیچینی دم ٹوڑ دیتی ہے۔

جس کے دل میں عشق پیدا ہوجاتا ہے وہ تا زندگی کبھی چین سے نہیں بیٹھ سکتا، محبوب اؑس کی سوچ اؑس کے خیال کا مرکز بن جاتا ہے. محبوب اؑس کی روح و جان بن جاتا ہے، عاشق اپنے خیال کو ہر طرف سے ہٹاکر اپنے محبوب کے میلاپ کی منزل کی جانب بڑھتا ہے لیکن یہ تو ایک خوبصورت احساس ہے پھر درد کیوں بیچ میں آتا ہے؟ بیرگن مرشد سے مخاطب تھی۔

لطیف نے گہری سانس لی اور کہا، صدا لگا کر مانگا تجھ سے، دردِ دل کوہیارا۔ دھوکر نجس کو اجلا کردے ، درد وہ دے اے یارا! عشق میں درد مانگنا پڑتا ہے اپنے ہی یار سے اور یہی درد تمہیں لیجائے گا اؑس منزل پراورعشق درد بن جائے گا۔

جگا کے پریت کا درد سکھی! اب کہاں گیا کوہیارا، من میں ایسا عشق جگایا جینا ہے دشوار، پل بھر نہیں قرار، رس رس کر دؑکھتے ہیں گھاؤ۔بیراگن شدِت غم سے لرزاؑٹھی اوربولی ہاں میری سانسوں میں، روح میں منصوررچ بس چکا ہے، میرا انگ انگ درد کی شدت سے ٹوٹ رہا ہے مگر وہ انجان ہے میری اس کیفیت سے پھر بھی میں زندہ ہوں، گریہ عشق کی آتش فقط عاشق کو جلا کر راکھ کردیگی ! میرے مرشد کیا یہی عشق کی آخری منزل ہے؟ جب کسی کا شمس چلاجائے تو دل کرے گا کہ پورے قونیہ کو آگ لگا دی جائے. شمس کے بنا اس شہرِ فراق کی کیا حیثیت۔

لطیف نے کہا عشق جب اس مقام کو چؑھو لے گا تو درد ہی رہے گا۔ خود کو تا زندگی طلب میں مگن رکھو منزل سے تیرا کیا واسطہ۔۔۔ لطیف سمندر کی لہروں کی جانب بڑہ رہا تھا. وہ ساکت ہوکر ریت پر بیھٹی لطیف کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی اس نے سیکھ لیا تھا درد کے ساتھ جینا، اب برستے نین خشک ہوچکے تھے کیوںکہ وہ عمربھرکی طلب سے جو جؑڑچکی تھی۔

Check Also

ٹئگور اور صوفی جدیدیت پسندی

رفیق وسان چند ہفتے قبل برن یونیورسٹی سوئیزرلینڈ کے سالانہ ورکشاپ میں کافی کے وقفے …

2 comments

  1. سید عابد رضوی

    بہت خوبصورت تحریر. ایک ایک لفظ. ایک ایک جملہ بولتا ھوا. موہ لیتا ھے. ڈوب کر لکھا ھے. اللہ کرے زور قلم اور زیادہ.

  2. بہترین کہانی ۔ منصور کی اغول سے نسبت رکھی جاتی تو اور گہراٸ کہان میں پیدا ہو سکتی تھی۔