ہفتہ , ستمبر 21 2019
Home / پاکستان / عالمی یوم برداشت منایا گیا

عالمی یوم برداشت منایا گیا

لاہور (اسٹاف رپورٹر) آج جمعے کے دن پاکستان سمیت پوری دنیا میں یوم برداشت منایا گیا.

چیئرمین رواداری تحریک سیمسن سلامت نے عالمی یوم برداشت کے موقع پر جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ 1996 سے 16 نومبر کو عالمی سطح پر رواداری کے دن کے طورپر منایا جاتا ہے۔ تنازعات، جنگوں، پُر تشدد رویوں، مذہب مسلک نسل رنگ زبان ثقافت علاقے اور دیگر بنیادوں پر پائے جانے والے تعصبات اور عدم برداشت کی شکار ہماری دنیا میں رواداری یا برداشت کا دن منانا انتہائی ضروری بلکہ واجب ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنوع (Diversity ) کی خوبصورتی سے مزین ہماری دنیا میں رواداری اور برداشت کے رویوں اور جذبوں کے بغیر پُر امن معاشرہ تشکیل نہیں دیا جا سکتا لہٰذا پوری دنیا میں تمام ممالک کو ایسے ٹھوس اور عملی اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے جس سے نفرت ، تعصب، ناانصافی اور عدم برداشت کا خاتمہ ہو سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام انسانوں کو بطور انسان سمجھنا چاہیے اور ان کی عزت و وقار نیز اُن کے رنگ، نسل، ذات، جنس، عقیدے، ثقافت اور دیگر سماجی پہچان کا بھی احترام کیا جائے، کسی کو کم تر اور کسی کو بر تر نا سمجھا جائے کیوں کہ انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے کا پہلا آرٹیکل اس بات کو انتہائی واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ ’’تمام انسان حقوق اور عزت کے اعتبار سے برابر پیدا ہوئے ہیں‘‘۔ لہٰذا ایسے قوانین پالیسیوں اور رویوں کی ضرورت ہے جن کے ذریعے سے تمام شہریوں میں برابری اور عدم امتیاز کا تصور نمایاں ہو۔

جنوب ایشیائی ممالک خصوصاً پاکستان اور ہندوستان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ عدم برداشت میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ عقیدے کی بنیاد پر گہرے ہوتے تعصب ذدہ رویے ، امتیازی قوانین و پالیسیاں تشدد کے رجحانات کو بڑھاوا دینے میں جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں جو نا صرف ان ممالک میں بسنے والے مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے مشکلات بڑھا رہے ہیں بلکہ عمومی طور پر انسانی آزادیوں اور حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

سیمسن سلامت نے کہا کہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد عدم برداشت کے نتیجے میں جنم لینے والے تنازعات لڑائیوں اور دہشت گردی سے متاثر ہوتے ہیں جو کہ انسانی سماج کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

انہوں‌ نے کہا کہ پوری دنیا کو لیکن خصوصی طور پر جنوب ایشیائی ممالک کو ایسی راہیں اور راستے تلاش کرنے کی ضرورت ہے جن کے ذریعے سے ہم جنگوں ، تنازعات اور عدم برداشت پیدا کرنے والے رجحانات اور رویوں کو کم کر کے انسان دوستی رواداری اور برداشت کے جذبوں کو بڑھاوا دے سکیں۔ اپنے سماج اور اپنی دنیا کو خوبصورت بنانے کا یہی بہترین کلیہ ہے .

Check Also

تھر کول پاور پروجیکٹ کے تحت سستی ترین بجلی بنے گی

تھر کول پاور پروجیکٹ سے سستی ترین بجلی بنے گی

محمد واحد توانائی بحران سے نمٹنے والے منصوبے تھرکول پاور پروجیکٹ سے بجلی کی پیداوار …