ہفتہ , ستمبر 21 2019
Home / اہم خبریں / موت کی رسمیں

موت کی رسمیں

ضحیٰ مرجان

موت کیا ہے؟
موت کے بعد روح مادی جسم کا لباس اتار کر عالم اعراف میں چلی جاتی ہے۔ عموماً موت کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بہر کیف بادشاہ ہو یا گدا، امیریا غریب، عقل مند و کم فہم، طاقت ور ہو یا کمزور ہر ایک کو موت سے ہم کنار ہونا ہی ہے کیونکہ موت ایک زندہ حقیقت ہے۔

ابتدا سے جہاں موت ہے وہاں موت کی رسومات بھی ہیں۔ کچھ لوگ اس موقع کو دکھ اور اپنوں سے بچھڑنے کے طور پر مناتے ہیں تو کچھ لوگ جشن کی طرح. بہت سی رسمیں انتہائی دلچسپ جبکہ کچھ مضحکہ خیز بھی لگتی ہیں جو کہ زمانہ قدیم سے چلی آرہی ہیں۔ کچھ اب نہیں رہیں جبکہ کافی اسی حالت میں جاری ہیں.

مرنے کے بعد متوفی کے لئے ادا کی جانے والی رسومات:


اسلام:
مسلمانوں میں موت کے بعد متوفی کے مادی جسم کو غسل کے بعد کفن اور پھر دفنا دیا جاتا ہے۔ اس موقع کو دکھ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اور میت کے ایصال ثواب کے لئے تسبیحات اور قرآن پاک پڑہا جاتا ہے۔

عیسائیت:
مسیحی لوگ اپنے پیاروں کے مرنے پر انہیں غسل دیتے ہیں جس کے بعد انہیں کفن دیا جاتا ہے اور کفن باکس میں دفنانے کے بعد قبر پر صلیب نصب کی جاتی ہے۔

اس موقع پر عزیز و اقارب اکھٹے ہوتے ہیں اور بائبل کی منتخب کردہ دعاؤں کا ورد کرتے ہیں۔ ایک متوفی کے اہل خانہ کے ساتھ غمخواری کرتے ہیں۔ (سمسن سلامت مسیح نے رسومات بتاتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں اور مسیحی برادری کی متوفی کے حوالے سے رسومات تقریبا ایک جیسی ہیں)

سناتن دھرم (ہندوازم):

سناتن دھرم یا ہندو دھرم میں کاسٹ سسٹم ہونے کی باعث ان کی رسومات میں بھی فرق ہے۔ سناتن دھرم میں کسی شخص کے مرنے کے بعد اسے غسل دیا جاتا ہے نئے کپڑے پہنائے جاتے ہیں اور گیتا کا پاٹ کیا جاتا ہے۔ اس دھرم میں اگنی (آگ) پوتر(پاک) مانی جاتی ہے۔ اس لئے وہ اپنے عزیز و اقارب کے مرنے کے بعد ان کی لاش کو آگ میں جلا دیتے ہیں۔ لیکن شیڈول کاسٹ کے لوگوں کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اپنی پیاروں کی لاشوں کو آگ لگائیں اس لئے شیڈول کاسٹ کے لوگ میتوں کو دفناتے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنی زندگی پوجا پاٹ اور دھرم کے لئے وقف کر دیتے ہیں ایسے لوگوں کو سادھو کہا جاتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ سادھوؤں کی لاش کو بھی آگ نہیں لگائی جاتی بلکہ انکو بٹھا کر انکی سمادھی بنائی جاتی ہے۔

پارسی:
پارسی مذہب کے پیروکار اپنے پیاروں کو مرنے کے بعد ٹاور آف سائیلنس پر چھوڑ جاتے ہیں ۔ جہاں گدھ اور دیگر پرندے اور حیوانات مردار خور اس لاش کو کھا جاتے ہیں۔ پارسیوں کا ماننا ہے کہ اس طرح کرنے سے میت کی مغفرت ہوتی ہے۔ اور یہ رواج کئی صدیوں سے چلا آرہا ہے۔

برما:
برما کے ایک قبیلے میں رسم ہے کہ مردے کو تیل کے ایک کھولتے ہوئے کڑھاوے میں ڈال دیتے ہیں۔ جب اس کڑھاوے میں مردے کی چربی تک پگھل کر حل ہو جاتی ہے تو مردے کا یہ ‘ست’ سب عزیز و اقارب اور حاضرین کو قہوے کی پیالی میں ملا کر تبرکاً پیش کیا جاتاہے اور سب یہ تبرک بڑے شوق سے پیتے ہیں۔

پیراگوئے(لاطینی آمریکا)
لاطینی آمریکا کے ملک پیرا گوئے کے قبیلے اچھے گایو کے لوگ آدم خور ہیں، ان کے ہاں رسم ہے کہ جب ان میں سے کوئی شخص مر جاتا ہے تو یہ لوگ اس کا گوشت کاٹ کر ہانڈی میں پکاتے اور کھاتے جاتے ہیں اور مردے کی باقی ماندہ ہڈیوں کو دور پھینک آتے ہیں، ان کا عقیدہ ہے کہ اس طرح بدروح دور ہو جاتی ہے، جو یہ نا کرنے کی صورت میں قبیلے والوں کے ساتھ چمٹ جاتی ہے۔ جس کے بعد تمام ہڈیوں کو ایک دفعہ پھر اکھٹا کیا جاتا ہے۔ اور ان میں آگ لگا دی جاتی ہے۔ راکھ کو محفوظ کیا جاتا ہے تا کہ پھر کبھی بد روح لوٹ کر ناں آجائے۔

تبت، نیپال، بھوٹان،سکم
تبت، نیپال، بھوٹان اور سکم کی سرحدوں پر ”شرپا”قبائل آباد ہیں۔ ان کے ہاں جب کسی کی موت واقع ہوتی ہے تو سب سے پہلے میت کو سفید کپڑے میں ڈھانپ دیا جاتا ہے اور اس وقت تک ہاتھ نہیں لگایا جاتا جب تک کہ ان کا مذہبی پیشوا ”لامہ” نہ آجائیں۔ لامہ آکر میت کے سر سے کچھ بال نوچتے ہیں اور ساتھ ہی کچھ پڑہتے بھی ہیں تاکہ مرنے والے کی روح سر کے راستے سے نکل جائے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ مردے کی روح 49 دن تک بھٹکتی رہتی ہے۔ اور اس دوران اگر تمام رسومات ادا کر دی جائیں تو وہ بھٹکنے سے محفوظ رہتی ہیں۔ ہندوئوں کی طرح ان کے ہاں بھی لاشوں کا جلانا باعث عزت و تکریم سمجھا جاتا ہے۔

روس:
قدیم روس میں یہ رواج تھا کہ میت کو نہلانے کے بعد اس کے ماتھے پر پانی کا گلاس بھر کے دفن کر دیتے تھے تاکہ دوسری زندگی کے طویل سفر میں پانی کی ضرورت پوری ہو سکے۔

آسٹریلیا:
آسٹریلیا کے کئی قبائل کے بڑے بوڑھے اور دانا قسم کے لوگ میت پر پہرا دیا کرتے تھے۔ یہاں کے کچھ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ میت دفن کرنے سے پہلے اس کی روح چارپائی کے نزدیک ہی کھڑی رہتی ہے۔ اس لئے اس کی حفاظت کے لئے بھرپور پہرا دینا چاہیے۔ کچھ جگہوں پر پہرا بوڑھوں کے بجائے بچے دیتے ہیں اور پہرا دیتے وقت شور مچاتے ہیں. ان کا ماننا ہے کہ اس طرح کرنے سے بدروحیں بھاگ جاتی ہیں۔
آسٹریلیا کے کچھ قبائل 6 ماہ تک لاش کو محفوظ رکھتے ہیں۔ آسٹریلیا کے ایک علاقے “یرکلا” کے لوگ جب یہ دیکھتے ہیں کہ ان کا کوئی عزیز رشتے دار یا گھر کا فرد قریب المرگ ہے تو وہ بڑے آرام سے اس شخص کو آگ کے قریب لٹکا کر چھوڑ دیتے ہیں اور اس وقت تک واپس نہیں آتے جب تک انہیں یقین نہ ہو جائے کہ گرم آگ نے مریض کو مکمل طور پر ٹھنڈا کر دیا ہے۔

مصر:
قدیم زمانے میں مصر میں لاشیں حنوط کرنے کا رواج تھا۔

مغربی آفریقہ:
یہاں کے لوگ مکئ کے دانوں کو ابال کر ایک دوا تیار کرتے ہیں جس سے وہ لاش کو محفوظ کرتے ہیں۔

فرانس:
فرانسیسی سوڈان کے لوگ قریب المرگ شخص کو دور دراز جگہ چھوڑ کر چیخیں مارتے ہوئے بھاگ جاتے ہیں۔ انہیں یہ خوف رہتا ہے کہ کہیں یہ شخص انہیں بھی اپنے ساتھ موت کی نیند ناں سلا دے۔ وہ مرنے والے سے اس قدر گھبراتے ہیں کہ اکیلے نہیں بلکہ جھنڈ کی صورت میں بھاگتے ہیں کہ کہیں بھوت ان کے تعاقب میں نہ آرہا ہو۔
فرانس کے ضلع “لینڈز” میں جب کسی شخص کے والدین مر جاتے ہیں تو ان کی یاد میں ایک سال تک برتنوں پر کپڑے ڈالے جاتے ہیں۔

برطانیہ/یورپ:
مغربی ممالک کے لوگ بھی توہم پرستی میں کچھ پیچھے نہیں۔ برطانیہ اور یورپ کے دیگر ممالک میں یہ بات مشہور ہے کہ جس کمرے میں میت ہو اس کی کھڑکیاں اور دروازے فوری طور پر کھول دیے جائیں۔ یورپ میں جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو آئینے پر کپڑا ڈال دیا جاتا ہے یا پھر آئینے کو الٹا رکھ دیتے ہیں۔ یہ سلوک تصاویر کے ساتھ بھی کیا جاتا ہے۔ کھڑکیاں بند کر دی جاتی ہیں، پانی سے بھرے مٹکے اور برتن خالی کر دیے جاتے ہیں تاکہ کوئی بھوت پریت اس کے ذریعے گھر والوں یا اہل محلہ پر اثر نہ کرے۔ اسی طرح جس پانی سے غسل دیا گیا ہو اور غسل میں جو برتن استعمال ہوئے ہوں یورپی لوگ وہ برتن پھینک دیتے ہیں۔ اس کے برخلاف یہاں کے ایک قبیلے نیگرو کے لوگ غسل کا پانی پی جاتے ہیں اور برتن دفن کر دیتے ہیں۔ جبکہ بعض لوگ یہ پانی قبروں پر ڈال دیتے ہیں۔

پیراگویان چاکو:
پیراگویان چاکو کے ریڈ انڈین قبائل جب کسی مریض کو نذر کی حالت میں دیکھتے ہیں تو یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ مریض کو مزید کسی تکلیف سے دوبار نہیں ہونے دیں گے۔ سب سے پہلے مریض پر دانہ پانی بند کرتے ہیں، پھر بھی زندہ رہا تو دور جنگل میں چھوڑ آتے ہیں، پھر بھی نہ مرا اور سخت جان ثابت ہوا تو کڑاکے کی سردی یا سخت دھوپ میں مریض کو کسی بیابان میں چھوڑ جاتے ہیں اور اگر پھر بھی مرنے کا نام نہ لے تو ایک گہرا گڑھا خود کر اس مریض کو زندہ دفن کر کے گھر لوٹ آتے ہیں۔

فجی:
جزیرہ فجی کے قبائلی مریض کو قبر میں ڈال کر کچھ اشیاء خوردونوش وہاں رکھ آتے ہیں اور اس وقت تک قبر کو اوپر سے بند نہیں کرتے جب تک مریض اپنے ہاتھ سے دانہ پانی استعمال کرسکتا ہے۔ جیسے ہی ہاتھ پائوں کام کرنے سے قاصر ہوتے ہیں تو قبر بند کردی جاتی ہے۔

صحرائے غزالی:
یہاں کے قبائل جب یہ دیکھتے ہیں کہ مریض صحت یاب ہونے کے قابل نہیں رہا تو اسے سبز پتوں میں لپیٹ کر مردہ خانے میں چھوڑ آتے ہیں۔

ہوٹن ٹوٹس:
اس قبیلے کے لوگ اپنے بوڑھے والدین اور بزرگوں کو کمزور ہوجانےکے بعد کئی طریقوں سے مارتے ہیں۔ انہیں جنگل میں بھوکا پیاسا چھوڑ دیتے ہیں، زندہ دفن کر دیتے ہیں، کسی چٹان سے نیچے گرا دیتے ہیں، درندوں کے آگے ڈال دیتے ہیں یا پھر ریچھ کی کھال میں مضبوطی سے باندھ کر کھانے پینے کا سامان ساتھ رکھ دیتے ہیں اور پھر دفن کر دیتے ہیں۔

یاکوت قبیلہ:
اس قبیلے میں یہ رواج ہے کہ بوڑھے لوگ اپنے بچوں سے استدعا کرتے ہیں کہ وہ ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیں اور اس خاتمے کو ایک تہوار کی شکل دیتے ہیں۔ مسلسل تین روز دعوتیں اڑائی جاتی ہیں، ہمسائیوں اور دوستوں کو اکھٹا کیا جاتا ہے، مرنے والے کے اردگرد پھول رکھے جاتے ہیں۔ بوڑھے کو چارپائی پر ڈال کر جنگل میں لے جایا جاتا ہے۔ اس کی قبر پہلے سے تیار ہوتی ہے۔ موسیقی کی دھنیں اور رقص کے مظاہرے ہوتے ہیں۔ ضعیف آدمی اپنے ساتھ تیر کمان، تلوار، برتن الغرض پسندیدہ اشیاء لے کر ہنسی خوشی زندہ دفن ہوتا ہے.

Check Also

ورلڈ کپ میں بھارت سے شکست کی ابتدا عمران خان کے دور سے ہوئی

محمد واحد پاکستان کی بھارت کے ہاتھوں ورلڈکپ میں ہارنے کی روایت نہ ٹوٹ سکی …