ہفتہ , ستمبر 21 2019
Home / اہم خبریں / پورٹ قاسم مزدوروں کا احتجاج، بچوں کا اسٹریٹ اسکول

پورٹ قاسم مزدوروں کا احتجاج، بچوں کا اسٹریٹ اسکول

کراچی (اسٹاف رپورٹر) بروقت فیسیں ادا نہ ہونے کے باعث پورٹ قاسم ڈاک ورکرز کے بیشتر بچوں کو نجی اسکولوں نے نکال دیا ہے ۔

کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کرنے والے پورٹ قاسم کے ڈاک ورکرز اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے پریشان ہیں۔انہیں گزشتہ پانچ ماہ سے تنخواہیں نہیں مل رہیں جبکہ انہیں ملازمت سے بھی نکالا جارہا ہے۔

بچوں کی تعلیم کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے کراچی پریس کلب کے باہر جاری احتجاجی کیمپ میںیہ اسٹریٹ اسکول قائم کردیا گیا ہے۔

ڈاک ورکرز کے احتجاج کااتوار کو 55 واں دن تھا۔ اس اسکول میں ڈاک ورکرز اپنے بچوں کو خود پڑھانے کھڑے ہوگئے ہیں۔

معصوم بچوں کا کہنا ہے کہ انہیں اسکول دوبارہ جانے کا بہت شوق ہے لیکن فیس کے پیسے ہی نہیں ہیں۔ متاثرہ ڈاک ورکرز کا کہنا ہے کہ ان کی 4 ماہ کی تنخواہیں رکی ہوئی ہیں. ان کے اکثر بچوں کو اسکولوں سے نکال دیا گیا ہے.

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ورکرز یونین آف پورٹ قاسم اخلاق احمد خان نے کہا کہ وہ بچوں کا مستقبل تباہ نہیں کرنے دیں گے۔ ان کے مطالبات منظور نا ہوئے تو ہر اتوار کو اسٹریٹ اسکول لگائیں گے۔

اخلاق احمد خان نے مطالبہ کیا کہ کراچی پورٹ کی طرح پورٹ قاسم میں بھی ڈال ورکرز ریگولیشن آف ایمپلائمنٹ ایکٹ 1974 پر عمل کیا جائے۔ پورٹ قاسم اتھارٹی ڈاک ورکرز کے رکے ہوئے کارڈز فوری جاری کرے۔ رکی ہوئی تنخواہیں جاری اور چارٹرڈ آف ڈیمانڈ پر فوری عمل کیا جائے۔

انہوں نے کہاکہ حکومتی نمائندے انہیں زبانی یقین دہانی پر احتجاج ختم کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں لیکن وہ ٹھوس معاہدے کے بغیر اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

Check Also

ڈیم

ڈیموں کی متبادل اور چھوٹے منصوبوں کی صدی

محمد علی شاہ یہ ڈیموں کی متبادل اور چھوٹے منصوبوں کی صدی ہے. اگر ہم …