ہفتہ , ستمبر 21 2019
Home / اہم خبریں / کراچی چیمبر کی صنعتوں،سی این جی اسٹیشنزکو گیس بحال کرنے کیلیے 24گھنٹے کی مہلت

کراچی چیمبر کی صنعتوں،سی این جی اسٹیشنزکو گیس بحال کرنے کیلیے 24گھنٹے کی مہلت

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی) کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا نے سوئی سدرن گیس کمپنی سے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ کی صنعتوں، کیپٹیو پاور پلانٹس اور سی این جی اسٹیشنز کو24گھنٹوں میں گیس کی فراہمی بحال کی جائے بصورت دیگر ایسا نہ کرنے پر چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر سوئی سدرن گیس مستعفی ہوجائیں۔

کے سی سی آئی میں بدھ کو ہونے والے ہنگامی اجلاس میں معروف صنعتکار اور سی این جی سیکٹر کے نمائندوں نے شرکت کی ۔اجلاس میں آل پاکستان سی این جی فورم کے چیئرمین شبیر ایچ سلیمان جی ، سینئر نائب صدر کے سی سی آئی خرم شہزاد، نائب صدر محمد آصف شیخ جاوید، ڈاکٹر قاضی احمد کمال اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔

جنید ماکڈا نے دھمکی دی کہ اگر تمام صنعتوں اور سی این جی اسٹیشنز کو فوری طور پر گیس کی فراہمی بحال نہیں کی تو تاجروصنعتکار برادری کے پاس ایس ایس جی سی کے مرکزی دفتر کے باہر دھرنا دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

انھوں نے صنعتوں، کیپٹیو پاور پلانٹس اور سی این جی اسٹیشنز کو غیر معینہ مدت کے لیے گیس کی فراہمی معطل کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت خاص طور پر وزیراعظم عمران خان پر زور دیا کہ وہ کراچی میں اپنے گزشتہ دورے کے موقع پر کیے گئے وعدے کو پورا کرتے ہوئے ایس ایس جی سی کو سندھ کے صنعتی یونٹس اور سی این جی اسٹیشنز کو بلا تعطل گیس کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کریں۔

انہوں نے وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر، وزیرپیٹرولیم غلام سرور خان، وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہر اور وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت رزاق داؤد کے ساتھ اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے کے سی سی آئی کے وفد کو گیس کی سپلائی معطل نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی مگر اس کے باوجود ایس ایس جی سی نے صنعتوں اور سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی معطل کردی جس کو تاجروصنعتکار برادری سمجھنے سے قاصر ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور ان کے مشیرسمیت دیگر وزرا ء کی وقتاًفوقتاً یقین دہانیوں کے باوجود ایس ایس جی کی جانب سے گیس کی فراہمی معطل کرنا واقعی مایوس کن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کراچی کی تاجروصنعتکار برادری زائد کاروباری لاگت کی وجہ سے پہلے ہی بہت زیادہ مشکلات سے دوچار ہیں لہٰذا کراچی کی صنعتوں کو گیس کی فراہمی معطل ہونا نہ صرف صنعتوں کے لیے نقصان دہ ہو گی بلکہ بے روزگار ی اور غربت میں اضافے کے علاوہ اقتصادی بحران بھی شدت اختیار کرجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کے سی سی آئی کے وفد نے وزیراعظم کے ساتھ گورنر ہاؤس میں ہونے والے گزشتہ اجلاس میں گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس ( جی آئی ڈی سی) کے مسئلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا جو اب تک حل نہیں کیا جاسکا علاوہ ازیں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ پاکستان کے آئین کی شق 158کے مطابق گیس کے ذخائر پر سب سے پہلا حق سندھ کا ہے لہٰذا سب سے پہلے سندھ کو طلب کے مطابق گیس فراہم کی جائے اور بقیہ گیس آئینِ پاکستان کی شق 158کے تحت دیگر صوبوں کو دی جائے لہٰذا ایس ایس جی سی کا کوئی نوٹیفیکیشن آئینِ پاکستان سے بالا تر نہیں ہوسکتا ۔

انہوں نے کہاکہ تاجر برادری پر امید ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس سنگین مسئلے پر توجہ دیں گے اور اایس سی جی سی کو سختی سے ہدایات جاری کریں کہ وہ کراچی کی صنعتوں اور سی این جی اسٹیشنزکو گیس کی فراہمی مطلوبہ پریشر کے مطابق فوری بحال کرے تاکہ وہ بغیر کسی دشواری کے چل سکیں۔انہوں نے اوگرا کی جانب سے 18دسمبر2018کو گیس کے نرخوں پر نظر ثانی کے لیے بلائی گئی عوامی سماعت پر بھی گہری تشویش کااظہار کیا جو اس مخصوص شعبے اور عوام کو مزید مصیبت مبتلا کردے گا۔

اس موقع پر آل پاکستان سی این جی فورم کے چیئرمین شبیر ایچ سلیمان جی نے کہا کہ سندھ کے سی این جی اسٹیشنز بمشکل 2 فیصد یعنی پورے پاکستان کے لیے مجوعی 4 ہزار ایم ایم سی ایف ڈی میں سے 70 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں 160ارب روپے کی مجموعی سرمایہ کاری سے 630 سی این جی اسٹیشنزقائم ہیں جوسی این جی سیکٹر اور اس کی متعلقہ صنعتوں میں بلواسطہ اور بلاواسطہ 4لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں لہٰذا اس اہم شعبے کو گیس کی فراہمی معطل کرنے سے غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا دوسری طرف ملک کی معیشت پر بھی اس کے برے اثرات مرتب ہوں گے حالانکہ یہ مد نظر رکھنا چاہیے کہ سی این جی کا شعبہ ٹیکسوں کی مد میں خطیر رقم جمع کرواتا ہے۔

Check Also

ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت

ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت

ضحیٰ مرجان ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت ہیں۔ پیپلز پارٹی کے جیالوں کی تاریخ …