ہفتہ , ستمبر 21 2019
Home / اہم خبریں / گنے کے کاشتکاروں کا احتجاج

گنے کے کاشتکاروں کا احتجاج

کراچی(اسٹاف رپورٹر) گنے کی کریشنگ شروع نہ ہونے کے خلاف سندھ کے آبادگاروں نے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج مظاہرہ کیا تفصیلات کے مطابق سندھ ہاری کمیٹی اور سندھ گروئر آرگنائزیشن کی طرف سے کریشنگ کا آغاز نہ ہونے، گذشتہ بقایا جات کی وصولی،کوالٹی پریمیم کی ادائیگی، گنے کی فصل اترنے سے پہلے قیمتیں مقرر کرنے اور سرکاری خریداری مرکز کھولنے اور گنے کی قیمت 250 روپے کرنے کے حوالے سے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں سندھ کے مختلف شہروں سے آبادگاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر سندھ ہاری کمیٹی کے نائب صدر کامریڈ ڈامرو مل نے کہا ہے کہ اگر شگر ملز کو بروقت نہ کھولا گیا۔ تو موسم سرما میں سردی کے باعث گنے کا وزن کم اور مٹھاس میں اضافہ ہو جائے گا۔جس سے ہاریوں اور آبادگاروں کو صحیح دام نہ ملنے کے سبب نقصان ہو گا۔ وہیں دوسری طرف گندم کی بوائی کا موسم بھی ختم ہو جائے گا جس سے آبادگار اور ہاری معاشی طور پر تباہ ہو جائیں گے۔

سندھ گروئر آرگنائزیشن کے چیئرمین رضاحمد چانڈیو نے کہا کہ شگر کین ایکٹ کے تحت 15نومبر سے کریشنگ کا آغاز ہونا چاہیے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت میں شامل شگر مل مافیا آبادگاروں کا معاشی قتل کر رہے ہیں۔منظم منصوبہ بندی کے تحت سندھ حکومت نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ جبکہ سندھ حکومت مالکان کو گنے پر 12اور چینی پر 40روپے کی سبسڈی دے رہی ہے۔انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار از خود نوٹس لیتے ہوئے سندھ حکومت سے کریشنگ کی شروعات اور فی من گنے کی قیمت 250روپے مقرر کرنے کا حکم جاری کریں۔

انجمن ترقی پسند مصنفین کے کامریڈ سلیم شیخ نے اس موقع پر کہا کہ سندھ کے آباد گار گذشتہ چار سالوں سے گنے، گندم، کپاس اور چاولوں کے سلسلے میں زیادتیوں کو برداشت کرتے آرہے ہیں۔ جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ جاگیردار مافیاگہری سازش کے تحت زرعی معیشت کو تباہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال بھی گنے کے کاشتکاروں کو گنے کی بقایا رقم نہ ملنے کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود کوالٹی پریمیم بھی ادا نہیں کی گئی۔ اور موجودہ سال پانی کی قلت اور مناسب قیمت نہ ملنے کے باعث گنے کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔

احتجاجی مظاہرے میں سول سوسائیٹی،عوامی ورکرز پارٹی کے رضا یوسف خان،عثمان بلوچ،کالم نویس سجاد ظھیر،نامور دانشور مشتاق علی شان، پروفیسر احمد سومرو، کامریڈ اقبال،حاجی محمد اسحاق چانڈیو،عطاء اللہ انڑ،ڈی ایس ایف کے چئیرمین میر ثاقب خورشید،جنیداحمد عمرانی، انجمن جمہوریت پسندخواتین کی رہنماکامریڈ کلثوم جمال اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بڑی تعداد میں احتجاجی دھرنے میں بطور یکجہتی شرکت کی۔

Check Also

ڈیم

ڈیموں کی متبادل اور چھوٹے منصوبوں کی صدی

محمد علی شاہ یہ ڈیموں کی متبادل اور چھوٹے منصوبوں کی صدی ہے. اگر ہم …